21 جون 2017 - 12:46
یوم القدس کمیٹی سندھ کی جانب سے عظمت بیت المقدس سیمینار کا انعقاد

اصغریہ اور القدس کمیٹی سندھ کے زیر اہتمام ’’عظمت بیت المقدس سیمینار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اہل فلسطین کے ساتھ ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جن مقاصد اور اہداف کے لیے بنایا گیا تھا ان سے کھلا انحراف کیا جارہا ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ حیدرآباد()یوم القدس کمیٹی سندھ کی جانب سے حیدرآباد پریس کلب میں ’’عظمت بیت المقدس سیمینار منعقد کیا گیا جس میں شیعہ ، سنی علماء کرام ،پروفیسرز ،دانشور حضرات نے شرکت کی جس میں  سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کو نسل کے صدرصاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیرنے فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے اصغریہ اور القدس کمیٹی سندھ کے زیر اہتمام ’’عظمت بیت المقدس سیمینار‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی عوام اہل فلسطین کے ساتھ ہے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان جن مقاصد اور اہداف کے لیے بنایا گیا تھا ان سے کھلا انحراف کیا جارہا ہے پاکستان سے عوام کو جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہوئیں۔ ملک میں جمہوریت صرف نام کی ہے، لیکن حقیقی جمہوریت موجود نہیں ہے۔
ڈاکٹر زاہد علی زاہدی، استاد اخلاق احمد اخلاق،پروفیسر وحید قریسی (جماعت اسلامی ) اور دیگر نے خطاب کیا ۔
مقررین کا کہنا تھاکہ ٖفلسطین فلسطینیوں کا ہے اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے، جو اپنے غاصبانہ قبضے کے ذریعے اہلِ فلسطین کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کررہی ہے۔ فلسطین و کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل نہیں ہورہا۔  غیر مسلموں کی بے غیرتی و بے حسی تو ہے ہی انتہا پر، ہمارے مسلم حکمرانوں کی خاموشی اوربے حسی بھی شرمناک ہے۔ عالم اسلام کو لسانی بنیادوں پر تقسیم کیا جارہا ہے، ایسے میں ملت اسلامیہ کو اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔ مقررین نے کہا کہ سعودی عرب، ترکی، ایران اور پاکستان پر مشتمل اتحاد قائم ہو تو اہلِ فلسطین کے حالات بدل سکتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ تمام تعصبات سے بالاتر ہوکر بروز جمعہ اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیےمنایا جائے۔ مقررین نے کہاکہ ڈاکٹر محمد مرسی نے جس طرح جیل کی سلاخوں کے پیچھے اہلِ غزہ کیساتھ یکجہتی کے اظہار کے لیے نعرہ لبیک بلند کیا ہے، ہمیں بھی اُس پر لبیک کہنا چاہیے۔ 1973ء کے دستور میں اسلام کو مملکت پاکستان کا دین تسلیم کیا گیا ہے۔ لیکن افسوس کہ آج تک اس بنیادی آئینی تقاضے کو پورا نہیں کیا جاسکا، جس کا نتیجہ طاقت کے زور پر شریعت نافذ کرنے کی صورت میں ہمارے سامنے آیا، حالانکہ بندوق کے زور پر شریعت نافذ نہیں ہوسکتی۔ آئین کے مطابق ہی اسلام کا نفاذ ہوگا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر زاہد حسین زاہدی کا کہنا تھاکہ آج ہر طرف انقلاب کے نعرے لگ رہے ہیں۔ مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی نے عوام کی زندگی اجیرن کردی ہے۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کو یہ بات تسلیم کرلینی چاہیے کہ پاکستان کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ کوئی بھی نئی محاذ آرائی ملک میں انتشار دینے کا سبب ہوگی۔ اہلِ پاکستان کو صرف ایک کلمہ لااِلٰہ اِلا اللہ کی بنیاد پر متحد کیا جاسکتا ہے۔ 14 اگست اور 27 رمضان المبارک نے پاکستان کے قیام کو ایک مضبوط اسلامی بنیاد فراہم کردی ہے۔ اب ہمارا فرض ہے کہ ہم اس ملک کو انتشار اور بدامنی سے نکال کر اتفاق اور ترقی کی راہ پر گامزن کریں۔ سیکولر اور لادین عناصر کی وجہ سے پاکستان بے یقینی کی صورتحال سے دو چار ہے۔ آج ہمیں نظریہ پاکستان کو دوبارہ زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ رہبر اعلی امام خمینی(رح) کے فرمان کے مطابق دنیا بھر میں اہل فلسطین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے رمضان المبارک کےآخری جمعہ جمعتہ الوداع کے موقع پر یوم القدس منایا جاتا ہے۔اس سلسلے میں دنیا بھر کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں مسلمان مختلف قسم کی تقریبات،جلسے اور جلوسوں کا انعقاد کرتے ہیں،جس میں مذہبی و سیاسی رہنماء مسئلہ فلسطین پر روشنی ڈالتے ہیں ۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئےاستاد اخلاق احمد اخلاق کا کہنا تھاکہ بیت المقدس مسلمانوں کی مشترکہ میراث ہے جس کی آزادی کے لئے تمام مکاتب فکر کو جدوجہد کرنی چاہئے اس وقت تمام مسلمان بلا امتیاز مذہب و مسلک قبلہ اول کی آزادی کے لئے اپنی جدوجہد کو تیز کریں۔ مزید کہنا تھا کہ اسلام امن کا مذہب ہے جو محبت اور رواداری کا درس دیتا ہے۔ وہ وقت دور نہیں جب یہود نصاری دنیا بھر میں ذلت و رسوائی سے دوچار ہوں گے۔ سیمینار کے شرکاء نے اسرائیل سے بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیلی جھنڈے نذر آتش کرنے کے علاوہ اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے۔
واضح رہے کہ اصغریہ اسٹوڈنٹس ،اصغریہ آرگنائزیشن پاکستان و یوم القدس کمیٹی سندھ کےتحت عظمت بیت المقدس سیمینار میںملی یکجہتی کونسل،جماعت اسلامی سمیت دیگر مذہبی جماعتوں کے رہنماء شریک تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲